نئی دہلی، 5 /مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے انڈین پولیس سروس کے سینئر افسر ٹی پی سین کمار کی توہین عدالت کی درخواست پر آج کیرا لہ کے چیف سکریٹری سے جواب طلب کیاہے۔سین کمار نے الزام لگایا ہے کہ عدالت عظمی کی ہدایت کے باوجود انہیں ریاستی پولیس کے سربراہ کے عہدے پر بحال کرنے میں تاخیر کی گئی ہے۔عدالت نے کیرالہ حکومت پر 25ہزار روپے کا جرمانہ بھی لگایا ہے جس نے الگ سے ایک درخواست دائر کرکے سین کمار معاملہ میں عدالت کے 24/اپریل کے فیصلے پر کچھ وضاحت مانگی تھی۔جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے سین کمار کی 29اپریل کی توہین عدالت کی درخواست پر چیف سکریٹری نلنی نیٹو کو نوٹس جاری کیا، اس معاملے میں اب 9 مئی کو سماعت ہوگی۔ سین کمار نے الزام لگایا ہے کہ ریاستی حکومت اور چیف سکریٹری جان بوجھ کر ان کو بحال کرنے کی عدالت عظمی کی ہدایت کی نافرمانی کر رہے ہیں۔سین کمار کی جانب سے سینئر وکیل دشینت دوے نے بنچ سے کہا کہ سینئر پولیس افسر کو ریاست کے پولیس سربراہ کے عہدے پر بحال کرنے کے 24/اپریل کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا ریاستی حکومت نے مذاق بنا دیا ہے۔کیرالہ حکومت کے وکیل نے بنچ سے کہا کہ سین کمار کو بحال کرنے کی کاروائی جاری ہے اور ریاستی حکومت نے عدالت میں نظر ثانی عرضی بھی دائر کی ہے۔اس پر بنچ نے کیرالہ کے وکیل سے کہاکہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے، نظر ثانی کی درخواست جب سماعت کے لیے ہمارے سامنے آئے گی، تب ہم دیکھیں گے۔ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ اس پر جرمانہ نہ عائد کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ عرضی واپس لے لیں گے، لیکن بنچ نے کہاکہ ہم اسے جرمانے کے ساتھ مسترد کر رہے ہیں، ہم 25ہزار روپے کے جرمانے کے ساتھ آپ کو اس عرضی کوواپس لینے کی اجازت دیتے ہیں۔بنچ نے کہا کہ اس نے سین کمار کی طرف سے پہلے لگائے گئے بدنیتی کے الزامات پر غور نہیں کیا تھا، لیکن ریاستی حکومت ایسی عرضی داخل کرکے ایک طرح سے اس کی تصدیق کر رہی ہے۔عدالت عظمی نے 24 /اپریل کو سین کمار کو بحال کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایل ڈی ایف حکومت کی طرف سے ان کا تبادلہ کرناغیر مناسب اور منمانا تھا۔